از حبیب جالب
ظلمت کو ضیاء، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گہر، دیوار کو در، کرگس کو ہما کیا لکھنا
اک حشر بپا ہے گھر گھر میں، دم گھٹتا ہے گنبدِ بے در میں
اک شخص کے ہاتھوں مدت سے، رسوا ہے وطن دنیا بھر میں
اے دیدہ ورو! اس ذلت کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا
یہ اہلِ حشم، یہ داراوجم، سب نقش برآب ہیں، اے ہمدم
مٹ جائیں گے سب پروردہء شب، اے اہلِ وفا! رہ جائیں گے ہم
ہو جاں کا زیاں پر قاتل کو معصوم ادا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا
لوگوںہی پہ ہم نے جاں واری، کی ہم نے انہی کی غم خواری
ہوتے ہیںتو ہوں یہ ہاتھ قلم، شاعر نہ بنیں درباری
ابلیس نما انسانوں کی، اے دوست! ثناء کیا لکھنا
حق بات پہ کوڑے اور زنداں، باطل کے شکنجے میںہے یہ جاں
انسان ہیںکہ سہمے بیٹھے ہیں، خوں خوار درندے ہیں رقصاں
اس ظلم و ستم کو لطف و کرم، اس دکھ کو دوا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا
ہر شام یہاں شامِ ویراں، آسیب زدہ رستے، گلیاں
جس شہر کی دھن میںنکلے تھے، وہ شہر، دلِ برباد! کہاں
صحرا کو چمن، بن کو گلشن، بادل کو ردا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا
اے میرے وطن کے فن کارو! ظلمت پہ نہ اپنا فن وارو
یہ محل سرائوں کے باسی، قاتل ہیں سبھی اپنے، یارو!
ورثے میں ہمیں یہ غم ہے ملا، اس غم کو نیا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا
No comments:
Post a Comment